5 جون 2013 - 13:42
ازبکستان میں کم عمری کی شادیوں کی حوصلہ شکنی کا قانون متعارف

مبصرین کا کہنا ہے کہ سزاؤں کو مزید سخت کرنے سے بچوں اور معاشرے کو 'منفی نتائج' کے خلاف تحفظ ملے گا۔ تاشقند – ازبکستان میں کم عمری کی شادیوں کی تعداد میں کمی لانے کے لیے حال ہی میں عائلی قانون میں مزید سخت سزاؤں کا اضافہ کیا گیا ہے۔

ازبکستان میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے اور حاکموں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ غیر معمولی حالات میں لڑکوں کو 17 سال اور لڑکیوں کو 16 سال کی عمر میں شادی کی اجازت دے سکتے ہیں۔ اپریل میں عائلی قانون میں کی جانے والی ترامیم کے مطابق ان غیر معمولی حالات میں حمل ٹھہر جانا، بچے کی پیدائش اور والدین یا سرپرست کی نگرانی سے آزاد ہونا شامل ہیں۔تاشقند میں بچوں کے امراض کی ماہر عالیہ مامیدوفا کا کہنا ہے کہ معاشرے میں 18 سال سے کم عمر افراد کو بچے تصور کیا جاتا ہے اور ان کے درمیان شادیوں کو خلاف معمول سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ دیکھنے میں بالغ نظر آ سکتا ہے مگر وہ جسمانی اور اس سے بھی اہم نفسیاتی طور پر ابھی تک نا بالغ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی عمر سے قبل شادی نہ صرف کسی فرد یا نوجوان خاندان کے لیے بلکہ مجموعی طور پر معاشرے کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

عالیہ نے سوال اٹھایا کہ اتنی کم عمری میں کس قسم کے خاندانوں کی توقع کی جا سکتی ہے؟ اور ان والدین سے کس قسم کے بچوں کی پرورش کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے جو خود ابھی نیم بچے ہوں۔

مسئلہ
اقوام متحدہ کے آبادی کے فنڈ کے مطابق ازبکستان میں کم عمری کی شادیاں سب سے زیادہ وادی فرغانہ اور ملک کے جنوب میں عام ہیں۔ ان صوبوں میں کم عمری کی شادیاں کل شادیوں کے 14 فی صد حصے پر مشتمل ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں قومی شرح 8 سے 9 فی صد ہے۔

قانون میں کی جانے والی ترامیم کے مطابق کم عمر افراد سے شادی کرنے والوں پر اب کم از کم ماہانہ اجرت کا 20 سے 30 گنا جرمانہ (7 سو 50 تا 1 ہزار 2 سو ڈالر [15 لاکھ تا 25 لاکھ ازبک سوم]) عائد کیا جا سکتا ہے یا انہیں ایک سال سخت مشقت یا تین ماہ قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل قانون میں جرمانے کی رقم 2 سو ڈالر (4 لاکھ 9 ہزار ازبک سوم) تھی۔

ایسے والدین یا سرپرست جو اپنے کم عمر بچے کی شادی کرتے ہیں اب انہیں بھی نئی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان سزاؤں میں کم از کم ماہانہ اجرت کا 20 تا 50 گنا جرمانہ (1 ہزار 2 سو ڈالر تا 1 ہزار 9 سو ڈالر [25 لاکھ تا 39 لاکھ ازبک سوم]), دو سال کی سخت مشقت یا چار ماہ قید شامل ہیں۔ اس سے قبل واحد سزا صرف 3 سو ڈالر (6 لاکھ 13 ہزار ازبک سوم) جرمانہ تھی۔

تبدیلیوں کی ضرورت تھی
تاشقند اوبلاست میں ضروری اعداد و شمار کے مقامی دفتر کی سربراہ مرحمت ذاکروفا نے کہا کہ شادی کے لیے رضا مندی کی قانونی عمر کی سخت پابندی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کامیاب شادی کے لیے اعلٰی سماجی و نفسیاتی پختگی درکار ہے۔ اس سے ان کی مراد زندگی میں واضح مقاصد کا تعین، مروجہ اقدار اور علم اور صلاحیتوں کی مخصوص سطح شامل ہیں جن کا نوجوانوں میں اکثر فقدان پایا جاتا ہے۔

انگرین اسپتال برائے اطفال میں تولیدی صحت کی ماہر لولا سیفت الدینوفا نے اس بات سے اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ شادی کو کسی شخص کی زندگی میں اکثر اپنی مرضی سے کرنے کا واحد کام سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کسی نوجوان لڑکی کا جسم بچے پیدا کرنے کے معاملے میں انتہائی نازک ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کم عمری کی شادیوں کے لیے زیادہ سخت سزا رکھنے کا مقصد سب سے پہلے نوجوان نسل کی صحت کی حفاظت کرنا ہے۔ دوسری چیز یہ کہ اس سے مالی مشکلات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے منفی نتائج کی روک تھام کرنا ہے۔

تبدیلی کے بعض نکات
ملک میں کم عمری کی شادیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔

پہلا قدم اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مسلم علماء نکاح صرف اس وقت پڑھائیں جب اس شادی کا موزوں شہری اندراج ہو چکا ہو۔

دیگر کوششوں میں لوگوں کو کم عمری کی شادیوں اور ان سے وابستہ خدشات کے بارے میں آگاہ کرنے کی ایک وسیع تر حکمت عملی شامل ہیں۔ ازبک خواتین کمیٹی کی خاتون ترجمان زہرہ سیدوفا نے کہا کہ مثال کے طور پر اسکول کے نصاب میں تعلیم کے پہلے سال سے ہی تولیدی صحت کے اسباق رکھے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ اور مقامی حکومتیں بھی عوامی آگہی کی مہموں میں اضافہ کرنے کے ذریعے اس سلسلے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ان مہموں میں وہ خود انحصاری کی ساکھ پر زور دے سکتے ہیں اور شادی سے قبل کسی لڑکی کو تعلیم اور کوئی ہنر حاصل کرنے کی ضرورت واضح کر سکتے ہیں۔

شادی یا مزید تعلیم؟
کم عمری کی شادیوں کے بارے میں لوگوں کی آراء منقسم ہے۔

بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ نظر ثانی شدہ قانون قومی روایات سے متصادم ہے۔

نمنگان سے تعلق رکھنے والی پانچ بچوں کی والدہ نرگس خاشموفا نے کہا کہ ماضی میں لوگوں کے لیے 13 سالہ لڑکی کی شادی کرانا معمول کی بات تھی۔ نرگس نے اپنی تین بیٹیوں کی شادیاں 17 سال کی عمر میں کر دی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں پر سزاؤں کو مزید سخت کرنے کا کیا فائدہ ہو گا؟ ازبک نوجوان اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں جلد بالغ ہو جاتے ہیں اور وہ عائلی زندگی کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا محبت میں گرفتار ہو جانا فطری سی بات ہے۔ شیکسپیئر کی جولیٹ کو ہی دیکھ لیں جسے دنیا بھر میں سراہا جاتا ہے۔ وہ محض 14 سال کی تھی۔ مگر بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ سوچ فرسودہ ہو چکی ہے۔

تاشقند سے تعلق رکھنے والے دو بیٹیوں کے والد منتظر ڈی نے کہا کہ کلاسیکی ادب غیر متعلقہ ہو چکا ہے۔ ہمیں بین الاقوامی معیارات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں پہلے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلانا چاہتا ہوں۔

.......

/169